مہر خبررساں ایجنسی، ثقافتی ڈیسک: ہفتہ وحدت دشمنوں کی جانب سے مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور اختلافات ایجاد کرنے کی پالیسیوں کے مقابلے میں ایک اہم ثقافتی اور سماجی حکمت عملی ہے۔ یہ امت اسلامی کو متحد ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ہفتہ وحدت ہر سال مسلمانوں میں اتحاد اور بھائی چارے کو فروغ دینے کے لیے منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر سنی و شیعہ سمیت تمام مذاہب و قومیتوں کو مشترکہ اسلامی اقدار، نبی اکرم ص کی تعلیمات اور قرآن کی روشنی میں یکجہتی قائم کرنے پر تاکید کی جاتی ہے۔ دشمنان اسلام کی تفرقہ انگیزی کے خطرات کے پیش نظر یہ ہفتہ امت مسلمہ کے لیے اتحاد اور اجتماعی قوت کی اہمیت جاننے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
ہفتہ وحدت امت مسلمہ کو یاد دلاتا ہے کہ اختلافات اور مذہبی فرقے امت کو جدا نہیں کرسکتے اور صرف بھائی چارے اور یکجہتی کے ذریعے ہی عزت اور ترقی کے بلند درجات حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
امام خمینی (رحمت اللہ علیہ) نے بصیرت کے ساتھ نبی اکرم ص کی ولادت کے بارے میں تاریخ میں منقول دو مختلف ایام کو دلوں کو قریب کرنے کا موقع سمجھا اور ان دنوں کو ہفتہ وحدت کا نام دیا۔ اس فیصلے کا واضح پیغام یہ تھا کہ مذہبی اختلافات مسلمانوں کے درمیان دشمنی یا جدائی کا سبب نہیں بن سکتے، بلکہ ان کے ذریعے امت کے مشترکہ اصولوں کو اجاگر کیا جانا چاہیے۔
آج امت اسلامی اسلاموفوبیا، فرقہ وارانہ اختلافات، نیابتی جنگوں اور عالمی طاقتوں کی تسلط پسندی جیسے بڑے چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسے میں وحدت کا تصور پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے اور یہ مسلمانوں کی عزت و اقتدار کی ضمانت کے لیے ایک اسٹریٹجک حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
امام جمعہ گناوہ حجت الاسلام سید عبدالہادی رکنی حسینی نے مہر نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ہفتہ وحدت کے آغاز پر مبارکباد دی اور کہا کہ دین اسلام کی زیادہ تر تعلیمات، جو دیگر مذاہب میں سب سے زیادہ اجتماعی تصور کی جاتی ہیں، جماعت اور اجتماع کے ذریعے نافذ کی جاسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم ترین سے جدید ترین فقہی، اخلاقی اور کلامی منابع میں وحدت اور اجتماع پر توجہ دی گئی ہے۔
حجت الاسلام رکنی حسینی نے مزید کہا کہ وحدت اور اتحاد کے مقابلے میں تفرقہ اور بکھراؤ ہے۔ دشمن امت مسلمہ کے درمیان قائم اتحاد کو ہر ممکنہ طریقے سے نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس لیے دنیا کے مسلمان ممالک کے درمیان اتحاد کو مضبوط کرنا دشمن کی تفرقہ انگیزی کے طوفانوں کو روکنے اور انہیں ناکام بنانے بہترین طریقہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کے ابتدائی سالوں سے عملی طور پر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ دنیا کے مسلمانوں کی وحدت پر ایمان رکھتا ہے اور اسے فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے۔ امام خمینی (رحمت اللہ علیہ) کی بصیرت کے تحت مسلمانان کے درمیان قربت قائم کرنے اور ہر قسم کی تفرقہ انگیزی سے بچنے پر خصوصی توجہ دی گئی۔
امام جمعہ نے یاد دہانی کرائی کہ امام خمینی نے اولین کانفرنس وحدت کے انعقاد کے ذریعے عملی طور پر وحدت کے اصول کو مضبوط کیا اور بدگمانی، جھگڑوں، تحریفات اور الزامات کو دور کرنے کے لیے کئی عملی اقدامات کیے، جن میں 12 تا 17 ربیع الاول کو ہفتہ وحدت کے نام سے موسوم کرنا شامل تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہفتہ وحدت امام خمینی کا قیمتی ورثہ ہے تاکہ مسلمانوں کے درمیان مشترکہ تعلیمات، نبی اکرم ص کی شخصیت اور قرآن کے محور پر باہمی اتحاد اور تعاون کا جذبہ قائم کریں۔
حجت الاسلام رکنی حسینی نے مزید بیان کیا کہ امام خمینی (رح) کے بعد رہبر معظم انقلاب آیت اللہ العظمی خامنہای (دامت برکاته) نے بھی ہمیشہ مسلمانان کی وحدت کو نبی اکرم ص کے گرد برقرار رکھا۔ ان کے مطابق نبی اکرم ص کی ولادت ہر مسلمان کے لیے تاریخ میں ایک اہم اور ممتاز مقام رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیکی اور فضیلت کا منبع اسی عظیم پیغمبر ص ہیں۔ ہر مسلمان جانتا ہے کہ امت مسلمہ کے جذبات اور مختلف فرقوں کے احساسات کو مرکزیت دینے کے لیے نبی اکرم ص کا وجود سب سے بہترین نقطہ ہے، کیونکہ سب مسلمان آنحضرت ص سے محبت کرتے ہیں اور آپ امت اسلامی کے تاریخی محور ہیں۔
امام جمعہ اہل سنت بندر گناوہ شیخ محمد فاروقی نے مہر نیوز سے گفتگو میں میلاد باسعادت نبی اکرم ص اور ہفتہ وحدت کی مناسبت سے کہا کہ قرآن کریم کی آیت «واعتصمو بحبل الله جمیعاً ولاتفرقو ا» کے مطابق مسلمانوں کے درمیان وحدت قائم رکھنا ایک الہی حکم ہے جس پر سب کو عمل کرنا ضروری ہے۔
شیخ محمد فاروقی نے مزید کہا کہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور یکجہتی امت اسلامی کی عظمت اور اقتدار کا سبب بنتی ہے۔ سنی و شیعہ کے درمیان ہم آہنگی نہ صرف اسلامی نظام کی دنیا اور خطے میں سربلندی کا باعث ہے بلکہ دشمنوں کے تفرقہ انگیز اقدامات کو ناکام بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج ایرانی عوام، ہر قوم اور مذہب سے تعلق رکھنے والے، متحد رہنے پر یقین رکھتے ہیں تاکہ اپنے اتحاد اور یکجہتی کے ذریعے دشمنوں کی امیدوں کو مایوسی میں بدل سکیں۔ 12 روزہ جنگ میں پوری دنیا نے ایرانی عوام کے اتحاد اور انقلاب اسلامی اور رہبر معظم کے ساتھ یکجہتی کو دیکھا، جب ایران کی تمام اقوام اور مذاہب نے دشمن کے خلاف ایک صف میں کھڑے ہو کر امت مسلمہ کی مثال قائم کی۔
شیخ محمد فاروقی نے کہا کہ اہل سنت بندر گناوہ ہمیشہ وحدت اور یکجہتی پر زور دیتے ہیں تاکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلیٰ مقاصد اور ملک کی ترقی و پیشرفت کے لیے مسلمانوں کے درمیان تعاون مضبوط رہے۔
اداره تبلیغات اسلامی گناوہ کے سربراہ حجت الاسلام علی محمدی نے ہفتہ وحدت کی مناسبت سے کہا کہ نبی اکرم ص رحمت اور اخلاق کا مظہر ہیں۔ آپ کی ولادت مدینہ کے تاریک آسمان کو نور سے روشن کرگئی۔ آپ ص نے اپنی آمد سے جہالت اور تاریکی کو روشنی اور معرفت میں تبدیل کیا۔
حجت الاسلام محمدی نے کہا کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ نبی ہیں جو تمام خدائی صفات کے حامل ہیں اور آپ ص کی عظمت کو بیان کرنے کے لیے کلمات اور اشعار ناکافی ہیں۔ اللہ تعالی نے قرآن میں آپ ص کی عظمت بیان کی ہے اور تمام مومنین کو بھی آپ ص پر سلام و درود بھیجنے کا حکم دیا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ہفتہ وحدت امت مسلمہ کا صرف ایک شعار نہیں بلکہ ایک ثقافت اور روایت ہے۔ دشمن اس اتحاد کو توڑنے کی بہت کوششیں کررہے ہیں لیکن امت اسلامی کی یکجہتی اس کی عظمت میں اضافہ کرتی ہے۔
حجت الاسلام محمدی نے کہا کہ ہفتہ وحدت اسلام اور نبوی تعلیمات کو معاشرے میں عام کرنے کا بہترین موقع ہے۔ یہ اسلام توحید پر مبنی ہے اور اس کا مقصد رحمت و شفقت کے اصولوں کے تحت انسانیت کی رہنمائی کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دار المومنین گناوہ سمیت دیگر علاقوں میں سنی و شیعہ مسلمان اتحاد اور بھائی چارے کے ساتھ ہفتہ وحدت مناتے ہیں اور اس کی مناسبت سے خصوصی پروگرامز کرتے ہیں، جن میں علماء سے ملاقات، مساجد میں تقریبات، شہداء کے اہل خانہ سے ملاقات، قرآن خوانی کی محفل اور شہداء کے مزاروں کی عطر افشانی شامل ہیں۔
آپ کا تبصرہ